05:48 , 17 اپریل 2026
Watch Live

مچھر نے انسان کا خون کب پینا شروع کیا؟ نئی تحقیق میں انکشاف

مچھر نے انسان کا خون کب پینا شروع کیا؟
مچھر نے انسان کا خون کب پینا شروع کیا؟

مچھر ایک چھوٹا مگر انتہائی خطرناک حشرہ ہے جو ہر سال تقریباً 6 لاکھ انسانوں کی جان لیتا ہے۔

یہ مچھر انسانی خون چوستے ہیں اور اس کے ساتھ Malaria، Dengue Fever، West Nile Virus، Yellow Fever اور Zika Virus جیسی خطرناک بیماریاں پھیلاتے ہیں۔

ایک نئی بین الاقوامی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مچھر نے سب سے پہلے انسانوں کا خون جنوب مشرقی ایشیا کے جنگلات میں پینا شروع کیا۔

اس تحقیق میں سائنسدانوں نے مچھروں کے ڈی این اے کا تجزیہ کرتے ہوئے ان کی ارتقائی تاریخ کا جائزہ لیا اور معلوم کیا کہ ابتدا میں یہ جانوروں اور بندروں کا خون پیتے تھے۔

تحقیق Anopheles leucosphyrus group سے تعلق رکھنے والے مچھروں پر کی گئی، جو ملیریا پھیلانے کے لیے مشہور ہیں۔

جیسے جیسے انسانی آبادی میں اضافہ ہوا، مچھروں میں جینیاتی تبدیلیاں آئیں اور انہوں نے ایسے رسیپٹرز پیدا کیے جو انسانوں کو پہچاننے میں مدد دیتے ہیں۔

نئی تحقیق کے مطابق مچھر اور انسان کا تعلق ممکنہ طور پر 18 لاکھ سال پرانا ہے، جو پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ قدیم ہے۔

آج دنیا میں مچھروں کی تقریباً 3,500 اقسام موجود ہیں، تاہم ان میں سے چند ہی انسانوں کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ ان کی رال میں موجود کیمیکلز انسانی مدافعتی نظام کو دھوکہ دینے میں مدد دیتے ہیں۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION